حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے اسرائیل کے ساتھ ۳۳ روزہ جنگ کی سالگرہ کے موقع پر المیادین ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ جب تک لبنان کی امت مسلمہ کے پاس مقاومت کا ہتھیار ہے امریکہ اور اسرائیل لبنان میں داخل ہونے کی جرئت نہیں کر پائیں گے۔انہوں نے کہا:اسرائیل جس جگہ سے بھی لبنان میں داخل ہونے کی کوشش کرے گا مقاومت اس کا سخت مقابلہ کرے گی۔حسن نصر اللہ نے کہا: امریکہ کئی بار ہمیں پیشنہاد کر چکا ہے کہ ہم فلسطین کی حمایت کرنا چھوڑ دیں اور اسرائیل کے خلاف اسلحہ نہ اٹھائیں تو حزب اللہ کو بین الاقوامی تنظیم ہونے کے عنوان سے رسمیت دے دے گا۔حزب اللہ کے سربراہ نے کہا: ہم نے جب ایک راستہ کا انتخاب کر لیا ہے اور اس پر اجماع کر لیا ہے تو اب اس کے بارے میں گفتگو کرنا فضول ہے ان کی ہمارے ساتھ مشکل یہ ہے کہ ہم نے مقامت کا راستہ انتخاب کیا ہے جس پر ہم مضبوطی سے ڈٹے ہوئے ہیں اگر ہم اپنے راستے سے ہٹ جائیں اور یہ اعلان کر دیں کہ اسرائیل کے خلاف اسلحہ نہیں اٹھائیں گے تو امریکہ ہمیں بڑے بڑے انعامات دے گا۔ لیکن ہم ایسا کر نہیں سکتے یہ ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔انہوں نے ۳۳ روزہ جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ۳۳ روزہ جنگ میں جو ہم میزائیل داغتے تھے وہ گنے چنے اور حساب و کتاب کے تھے ہمارے پاس جنگی امکانات بہت ہی کم تھے لیکن ہمارے پاس صرف ایک چیز تھی وہ تھی مقاومت۔انہوں نے ۳۳ روزہ جنگ میں حزب اللہ کی مقاومت کو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لڑنے والے تمام داخلی اور خارجی گروہوں کے لیے نمونہ عمل قرار دیا۔ سید حسن نصراللہ نے اس انٹرویو میں اعتراف کیا کہ گزشتہ ہفتے جو بارودی سرنگ صیہونی فوجیوں کے راستے میں پھٹی ہے وہ مقاومت کی جدید بارودی سرنگ ہے جو صیہونیوں کے شکار کے لئے تیار کی گئی ہے۔سید حسن نصراللہ نے چودہ مارچ گروپ کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا اس گروپ کا بنیادی ھدف لبنان کی حفاظت اور دفاعی حکمت عملی تیار کرنا نہیں بلکہ اسلامی مقاومت کو غیر مسلح کرنا ہے۔ْ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
14 اگست 2013 - 19:30
News ID: 451772
حزب اللہ کے سربراہ نے المنار ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ جب تک حزب اللہ کے پاس مقاومت کا ہتھیار ہے اسرائیل لبنان میں داخل ہونے کی جرئت نہیں کر سکتا۔